Helping The others Realize The Advantages Of میم کوائن

لَعَنَ رَسُولُ اللهِ اكِلَ الرِّبَا وَمَوْكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَ كَاتِبَه – (۱۷)

’مجھے بغیر آستین والا لباس پہننے کی وجہ سے وزیر کو ایوارڈ دینے سے روکا گيا‘: انڈین طالبہ کا دعویٰ

’پاکستان میں کریپٹو کرنسی قانونی نہیں، اسے مشکوک مانیں‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے، کھلانے ، اس کے گواہ اور لکھنے والے (سب) پر لعنت فرمائی ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک عمومی مزاج رائج ہے کہ جب کبھی بھی ترقی کرتی ہوئی دنیاکے ساتھ کوئی نئی چیز وجود میں آتی ہے تو عوام الناس اس کا شرعی حکم جاننے کے لیے علمائے کرام کی طرف رجوع کرتی ہے جو کہ بلا شبہ ایک قابل تعریف امر ہے لیکن ساتھ ایک افسوس ناک امر یہ ہوتا ہے کہ اگر علما اس پر محققین کی آراء کی روشنی میں حرمت کا فتوی دیتے ہیں تو علماء دقیانوس اور ترقی سے دور شخصیات جیسے القابات سے نوازے جاتے ہیں اور اگر علماء محققین کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے حلال ہونے کا فتوی دیتے ہیں تو لوگ اس میں سرمایہ کاری بغیر سوچے سمجھے شروع کر دیتے ہیں اور اگر اس میں نقصان ہو جائے تو علماء کو ہدف تنقید بنایا جاتایہ رویہ قطعا غیر مناسب رویہ ہے حالانکہ نبی ﷺ نے بیان فرمایا : إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ اخطا فلہ أَجْرٍ – یعنی : جب فیصلہ کرنے والا کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دو ثواب لتے ہیں اور جب کسی فیصلے میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے ایک ثواب ( اپنی محنت کا ) ملتا ہے۔ غور فرمائیں کہ نبی ﷺ نے دونوں صورتوں میں علماء کے لیے ثواب اور نیکی کی بشارت دی ہے نہ کہ یہ فرمایا کہ اگر وہ غلط ہوں تو ان کو ہدف تنقید بنایا جائے ۔

Immediately detect when the marketplace is fueled by substantial-conviction self confidence or stalled by dread via regular Bitcoin updates.

اگرچہ کرپٹو کرنسیوں کو غیر مرکزی (ڈی سینٹرالائزڈ) کرنسی بتایا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ 'فی ایٹ' کرنسی سے بھی زیادہ سینٹرالائزڈ ہے- شخصی رازداری آزادی کا سب سے اہم ستون ہوتا ہے۔ ہر مطلق العنان پرائیویسی کو ختم کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق بتاتی ہے کہ بٹ کوائن کی قدر میں تازہ ترین اضافہ اس لیے نہیں ہو میم کوائن رہا ہے کیونکہ انفرادی خوردہ سرمایہ کار بٹ کوائنز خرید رہے ہیں۔

سپورٹرز کرپٹو کرنسیوں جیسے کہ بٹ کوائن کو مستقبل کی کرنسی کے طور پر دیکھتے ہیں اور انہیں ابھی خریدنےکے خواہش مند ہیں اس سے پہلے کہ وہ سولانا ٹوکنز زیادہ قیمتی ہو جائیں۔

یہ بطور مثال بٹ کوائن کی ٹرانزیکشن کا طریقہ کار مختصراً ذکر کیا گیا۔ اس میں ایک احتمال باقی ہے وہ یہ کہ کیا حسن واقعتا اس بٹ کوائن کا مالک تھا بھی یا اس نے جعل سازی کے تحت یہ کوائن فرضی طور پر بنا رکھا تھا ؟ عام زندگی میں اس سوال کا جواب کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ دیتے ہیں جس کے تحت وہ یہ ذمے داری لیتے ہیں کہ معاملہ ہر قسم کی جعل سازی سے پاک ہے لیکن بٹ کوائن چونکہ ایک ڈی سینٹر لائیز ڈ ٹیکنالوجی پر قائم ہوتا ہے تو اس میں کوئی ادارہ یا بینک یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس احتمال کو دور کرنے کے لیے تصدیق کا عمل بنایا گیا جس میں یہ احتمال دور کیا جاتا ہے کہ واقعتا حسن اس بٹ کوائن کا مالک تھا اور وہ اس میں کوئی دھوکہ دہی کا معاملہ نہیں کر رہا۔ ہم نے ذکر کیا کہ مختلف کرنسیوں میں یہ تصدیق کا عمل مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ کچھ کرنسیوں میں سٹیکنگ“ کا عمل ہوتا ہے جبکہ بٹ کوائن میں یہ تصدیق کا عمل ” مائیننگ کے ذریعے ہوتا ہے۔

نیچے دیے گۓ ٹیبل میں آپ مشہور کرپٹو کوائنز کی تفصیل جان سکتے ہیں۔

تونسہ: بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں سرنجز کے ایک سے زیادہ بار استعمال کا انکشاف

بٹ کوائن فراڈ، پاگل پن اور پونزی اسکیم کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں رہی۔

ان ٹو دی بلاک کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑے بینکوں جیسی بٹ کوائن وہیلز قیمت اور مانگ میں اضافہ کر رہی ہیں اور پیئر ٹو پیئر ڈیجیٹل کیش کی طرف متوجہ ہونے والے عام لوگوں میں اضافہ نہیں ہو رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *