لکھت کریئیٹیو کامنز انتساب/ اکوجہے-شراکت لائسنس دے ہیٹھ دستیاب اے، ہور شرطاں وی لاگو ہوسکدیاں نیں۔ ویروے لئی ورتن شرطاں دیکھو۔
کرپٹو کرنسی، جسے بعض اوقات کرپٹو بھی کہا جاتا ہے، ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسےکمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے محفوظ آن لائن خریدوفروخت کے لیے زرِمبادلہ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ چونکہ یہ صرف آن لائن موجود ہوتی ہے اس لیے اس کا کوئی مادی وجود نہیں ہوتا۔
’پاکستان میں کریپٹو کرنسی قانونی نہیں، اسے مشکوک مانیں‘
مذہبی خبریں۔
تونسہ: بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں سرنجز کے ایک سے زیادہ بار استعمال کا انکشاف
ایک خواب جو کینسر کی تشخیص کی وجہ بنا، کیا واقعی سوتا ہوا دماغ ہمیں پیغام دے سکتا ہے؟
تین ارب ڈالر کے بٹ کوائن کی چوری کی کہانی، جو پوپ کورن کے ڈبے پر ختم ہوئی
گاڑی میں ٹوائلٹ سیٹ: کیا چینی کمپنی کار میں بیت الخلا نصب کرنے جا رہی ہے؟
امریکہ-ایران مذاکرات کا امکان: اسلام آباد کا فائیو سٹار ہوٹل حکومتی تحویل میں، جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک معطل
چونکہ اس ٹیکنالوجی کا زیادہ تر استعمال رقوم کی ترسیل کے لیے ہوتا ہے تو ہم طریقہ کار کی وضاحت کے لیے رقم کی ٹرانزیکشن کا طریقہ ہی کریپٹو کرنسی بیان کریں گے۔
بٹ کوائن کے خریداروں یا اس معاملے پر نظر رکھنے والوں میں سے شاید ہی کوئی ہو جو سافٹ ویئر کا کاروبار کرنے والے مائیکل سائلر کو نہیں جانتا ہو۔
اگر کرنسی کی جنس الگ ہے تو کمی بیشی جائز ہے لیکن جس مجلس میں لین دین کا معاملہ ہو رہا ہے ٹوکن اس مجلس میں دونوں طرفین کا کرنسی پر قبضہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ ادھار جائز نہیں ہے ۔ مثلاً : اگر زید نے عمر سے ایک بٹ کوائن کے بدلے دولائٹ کوائن کا معاہدہ کرنا ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ جس مجلس میں یہ معاہدہ ہو رہا ہے اس میں عمر کے پاس بٹ کوائن ٹرانسفر ہو جانا چاہیے اور زید کےپاس دو لائٹ کو ائن ٹرانسفر ہو جانا چاہیے۔
دوسری حکومتیں ، جیسے وسطی افریقی جمہوریہ اور فرانس ، بٹ کوائن کو قانونی ٹینڈر کے طور پر تسلیم کرنے لگی ہیں۔
انشورنس فراڈ: گاڑیوں پر حملہ کرنے والا ’ریچھ‘ انسان نکلا