امریکہ ایران جنگ کے اثرات کے بارے میں مختلف ممالک کے بااثر افراد کیا سوچتے ہیں؟
۱ اتہاس ۲ موزونیت ۳ باہری لنک ۴ حوالہ Toggle the table of contents کریپٹو کرنسی
’بہادری اور شجاعت‘ کا تمغہ مگر جنگی جرائم کا بھی الزام: افغان جنگ میں شریک آسٹریلوی فوجی کی کہانی
ابتدائی دور میں ” در چوکل کرنسیاں اسی سوچ کی بنیاد پر قائم کی گئیں جس بنیاد پر موجودہ حکومتی کرنسیاں ہوتی تھیں ۔ یعنی کہ یہ کرنسیاں کسی ادارے یا حکومت کی پشت پناہی میں وجود میں لائی جاتی تھیں اور ان حکومتوں / اداروں کی یہ ذمے داری ہوتی تھی کہ وہی ان کرنسیوں کا مکمل نظام سنبھالیں ۔ یعنی یہی حکومتیں ادارے ان کرنسیوں کو جاری کریں ، ان کے لین دین کا نظام محفوظ بنائیں اور جعل سازی اور دیگر دھوکہ دہی پر مبنی عوامل سے ان کرنسیوں کو محفوظ رکھیں ۔
یہ کمپیوٹرز جن میں سے اکثر بٹ کوائن بنانے والی بڑی کمپنیوں کی ملکیت ہوتے ہیں، ہائی ٹیک اکاؤنٹنٹس کی طرح کام کرتے ہیں جو بٹ کوائنز کے لین دین کا ریکارڈ جانچتے اور محفوظ کرتے ہیں۔ اس کام کے عوض کمپیوٹرز کو خود بخود بٹ کوائنز ہی ملتے ہیں۔
کر پٹوکرنسیاں کچھ عرصہ قبل ہی اس نام سے مشہور ہوئی ہیں جبکہ اس سے قبل یہ ور چوئل کرنسی کے نام سے پہچانی جاتی تھیں۔ کر پٹوکرنسی کی تاریخ کو بنیادی طور پر دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ (۳)
’بہادری اور شجاعت‘ کا تمغہ مگر جنگی جرائم کا بھی الزام: افغان جنگ میں شریک آسٹریلوی فوجی کی کہانی
دنیا بھر کی حکومتوں نے ابھی تک پوری طرح سے اندازہ نہیں لگایا ہے کہ کرپٹو کرنسی کو کیسے ہینڈل کیا جائے، اس لیے ریگولیٹری تبدیلیاں اور کریک ڈاؤن کرپٹو مارکیٹ کو غیر متوقع طریقوں سے بٹ کوائنز کی قیمت متاثر کرسکتے ہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ بٹ کوائن کے لیے کامیابی کے ساتھ مائننگ کرنا مشکل تر ہوتا چلا گیا ہے، اس لیے بڑی کمپنیاں دنیا بھر میں بٹ کوائن کے مائننگ پول میں بڑا حصہ لیتی ہیں۔
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
بٹ کوائن نیٹ ورک کے رضاکاروں کا اس میں فائدہ یہ ہے کہ جو بھی اس خرید و فروخت کی پہلے تصدیق کرتا ہے اسے انعام میں بِٹ کوائن دیے جاتے ہیں اس قابل منافع عمل کو ’مائننگ‘ کہا جاتا ہے۔
کرپٹو کرنسیز صارفین کو خود مختاری دیتی ہیں یعنی صارف بنا کسی دباؤ یا پابندی کے خریدوفروخت کر سکتا ہے اور انہیں بینکوں کی فیس بھی نہیں دینی پڑتی جبکہ انٹرنیشنل ادائیگیوں کی فیس بھی بہت کم ہے
چونکہ بٹ کوائن کا نظام بلاک چین ٹیکنالوجی پر قائم ہے اور اس میں تمام ریکارڈ نیٹ ورک میں موجود تمام کمپیوٹرز/ نوڈز میں ہوتا ہے۔ مائیر کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ ٹرانزیکشن جس کا ایک مخصوص کوڈ ہوتا ہے وہ اس کو چیک کرتا ہے کہ یہ بٹ کوائن حسن کے پاس کیسے آیا اور وہ اس ٹرانزیکشن سے قبل اس کو کسی اور جگہ پر خرچ تو نہیں کر چکا۔ جب مائینز مطمئن ہو جاتا ہے تو وہ اس ٹرانزیکشن کی تصدیق کر دیتا ہے اور بٹ کوائن حسن کی ملکیت سے نکل کر زید کی ملکیت میں آ جاتا ہے۔ اس عمل کو مائیٹنگ کہتے ہیں۔ اس کو پروف آف ورک بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمل انتہائی محنت طلب اور بے انتہا مہنگا ہوتا ہے۔ اب سوال بٹ کوائنز کی قیمت یہ آتا ہے کہ جو شخص اتنی محنت اور سرمایہ خرچ کر کے اس تصدیق کے عمل کو سر انجام دیتا ہے اس میں اس کا کیا فائدہ ہے؟
When these developments collide, they build the another thing every single Trader will have to learn: Value Volatility.